Star InactiveStar InactiveStar InactiveStar InactiveStar Inactive
 

پیدائش اور خاندان

Amma Marium Tajiمریم بی اماں کی پیدائش ہندوستان کے قصبہ کا جلیشور تعلقہ مرتضیٰ پورضلع اکولہ میں۸ا اپریل ١٨٨٥ء مطابق ۲ رجب المرجب ١٣٠٢ھ بروز شنبہ کو با سعاد ت سعید تولد ہوئی ان کے تین بھائی اور ایک بہن تھی۔ والد کا نا م عزیزالدین اور والدہ کا نام عا ئشہ بی بی تھا۔ مریم بی نے قدرے قرآن کی تعلیم حا صل کی تھی۔لیکن ذوق عبادت وریاضت خوب پایا تھا۔ان کا اکثر وقت غوروفکراور خلو ت نشینی میں گزرتا تھا۔شادی کے بعد گھریلو مصروفیات اور ذمہ داریوں کے با وجودان معمو لات میں کوئی فرق نہیں پڑا۔آپ شادی کے بعد بہت تھوڑے دن اپنے سسرال رہنے پائی تھیںکہ ان کے بھائی جناب قطب الدین صاحب نے اپنے گھر لا رکھا۔ مریم بی کا خا ندان ایک فقیر دوست خا ندان تھا۔ درویشوں اور فقیروں کی خدمت میں حا ضری دینا ، ان کی خدمت کرنا اس خاندان کے لوگوں کا شیوہ تھا۔


 

دو لعل

یہ ان دنوں کا ذکر ہے جب مریم بی کے بھائی غلام محی الدین صاحب کامٹی میں ملازمت کر رہے تھے اور مریم بی بھیان دنوں کامٹی میں ان کے ساتھ رہٍتی تھیں۔جناب غلام محی الدین صاحب کو پتہ چلا کہ کامٹی میں ایک صاحب کمال اور روشن ضمیر بزرگ وارد ہوئے ہیں۔ان بزرگ میں درویشی اور فقیری کے اوصاف دیکھ کر ایک دن غلام محی الدین صاحب نے بزرگ سے درخواست کی :?حضرت کیاہی اچھاہو اگر آپ ہمارے گھرچند دنوں مہمان رہ کر غریب خا نہ کو رونق بخشیںاور ہمیںاپنی کا موقع فراہم کریں۔ہم اسے اپنی خوش بختی تصور کریں گے۔? بزرگ نے درخواست قبول کر لی۔ایک دن جب گھر کے سب لوگ بزرگ کی خدمت میںحا ضر ہوئے تو انہوں نے مریم بی کی والدہ یعنی عائشہ بی بی سے مخاطب ہو کر کہا: ?بی بی اﷲ تعالے نے تمہیں دو لعل عطا کےے ہیں۔ اور یہ ان میں سے ایک ہے۔? بزرگ کا اشارہ مریم بی کی طرف تھا۔

 

بابا تاج الدین کا مدت کا انتظار

ان بزرگ نے مریم بی کو مخاطب کیا: ?بیٹی !آفتاب ولایت ناگپور کے افق سے ضیاءپاشی کر رہا ہے۔جاﺅ اور اپنی روح اور جسم کو اس سے منور کر لو۔ناگپور کا پاگل خا نہ اس وقت شہنشاہ ہفت اقلیم بابا تاج الدین کا پایہ تخت ہے۔ان کی خدمت میں جاﺅ ممشیت نے تمہاری قسمت میںبابا مرشد کا فیض لکھا ہے?۔ مریم بی فور ناگپور کے پاگل خانے میںحاضرہو ئیںجہاںان دنوںبابا تاج الدین رہتے تھے۔مریم بی جیسے ہی وہاں پہنچیں،بابا مرشد اٹھ کھڑے ہوئے۔اور ان کے قریب آکر کہا۔ ?میںتیرا مدت سے اتنظار کر رہا تھا?۔ یہ کہ کر بابا مرشد نے مریم بی کے دونوں ہاتھوں کی چوڑیاں توڑڈالیں۔ ? روزانہ آیاکر ?۔

 


ریاضت

محترمہ مریم بی نے حضرت بابا مرشد کی ہدایات پر اس طر ح عمل کیا کہ روزانہ پاگل خانے آتیں اور پھا ٹک کے باہر ایک مخصوص جگہ پر کھڑے ہو کر بابا صا حب کی طرف متوجہ رہتیں ۔رفتہ رفتہ اس شغل میں اتنی محویت اور استغراق پیدا ہوا کہ کھانے پینے اور کپڑوں کا ہوش تک جانے لگا۔ ایک سال گزرگیا۔اس دوران بابا تاج الدین ﺭﺿ پاگل خانے سے شکردرہ اور پھر ایک ماہ بعد واکی تشریف لے گئے۔مریم بی بھی وا کی تشریف لے گئیں اور قصبہ پاٹن ساﺅرنگی میں قیام کیا۔یہاںبھی وہ ہرروز حضور بابا مرشدﺭﺿ کی خدمت میںحاضر ہوتیںجوان پر نہایت شفقت ومحبت کی نظر رکھتے تھے یہ زمانہ بھی تقر یبا ایک سال پرمحیط ہے مستقل دو سال کی ریاضت کے بعد ایک روز باباتاج الدین ﺭﺿ مریم بی کو لیکر کہنان ندی کے اطراف میں پہنچے اور ایک ویران او ر بے آباد جگہ جو جنگلی جانوروں کی گزرگا ہ تھی،وہاں پہنچ کر رک گئے اور مریم بی کو حکم دیا۔ ?یہاںبیٹھ جا اور بلا ا جا زت نہ اٹھنا?۔ یہ سننا تھا کہ دل میںکسی قسم کی جھجک،خو ف یا ڈر لائے بغیر مریم صاحبہ وہا ں بیٹھ گئیں اور سامان خوردونوش تک کے متعلق نہ سوچا۔ مریم صاحبہ کو وہاں چھو ڑکر بابا تاج الدین ﺭﺿ واپس چلے آئے۔

 

 


اس واقعہ کو ایک ہفتہ گز رگیا۔باباصاحبﺭﺿ کے خدام اور عقیدت مند اس دوران سخت حیران وپریشان ر ہے کیوں کہ باباصاحبﺭﺿ نے ایک ہفتہ مطلق نہ کچھ کھایا نہ پیا۔ ایک ہفتے بعد باباصاحبﺭﺿ باہر تشریف لائے اور بلند آواز سے پکا رنا شروع کیا۔ ?لچھن واکوڑیا الچھن واکوڑیا? آپ کی آوازپر ایک کسان واکوڑیا نامی حاضر ہواحضور نے اسے حکم دیا تیرے کھیت کے قریب ایک اما ں رہتی ہیں۔انہیں روٹی لے جاکردے اور ان کی خدمت کیا کر مجاہدہ پر غور فرمائیے خطر ناک جنگل میں بٹھا یا اور پھر ایک ہفتہ کے بعد خبرلی۔ و اکو ڑیا نے فوراََ کھا ناتیارکرو ایااور ساتھ ے کراماں صا حبہ کی تلاش میں نکلا۔کانی دیر تلاش کے بعد اس نے جھاڑیوں کے جھنڈ میں اماں صاحبہ کو چادر اوڑھے لیٹے پایا۔اس نے کئی آواز یں دیں لیکن اماں مریم صاحبہ کے جسم میں کوئی جنبش نہیںہوئی اور وہ بدستور آنکھیں بند کئے چادر اوڑھے لیٹی رہیں۔آخر میں واکوڑیا نے کہا: ?میں بابا مرشدﺭﺿ کے حکم پر آپ کے لئے کھانالا یاہوں?۔ مریم اماںصاحبہ ایک جھٹکے سے اٹھ بیٹھیں ، نہایت تعظیم سے کھانالیا اور بڑی مشکل سے تھوڑا ساکھایا۔ لوگ کہتے ہیں کہ جس وقت واکوڑیا کھانا لے کر اماں صاحبہ کی تلاش میں گیا ہے اس کے کافی دیر بعدبابا مرشد نے کھانا منگوایا اور ایک ہفتے کے بعد پہلا لقمہ منہ میں ڈالا۔واکوڑیا فورقریبی نالے سے پانی لے آیا۔اماں صاحبہ جب کھانے سے فارغ ہو ئیںتو واکوڑیانے اماں صاحبہﺭﺿ سے دست بستہ عرض کی۔ ? حضورﺭﺿ کا حکم ہے کہ میں آپ کی خد مت کروں لہذا یہ مقام خطرناک ہے آپ میری باڑی میں چلیںوہاں آپ کے لے? جھو نپڑا بنا دیتا ہوں۔? یہ اصرار شدید اماں صاحبہ نے قبول فرمایا اور واکوڑیا کے کھےت میں تشریف لے گے

 


باب ولایت

مریم اماں صاحبہ فر ماتی تھیں کہ: ? میری برسو ں کی ریاضت کو حضور نے ازراہ عناےت وشفقت دنو ںمیں طے کرایاکیونکہ عورت ذات اور دبلی پتلی تھیں۔اس لئے حضور نے میرے حال پر خاص رحمت کی نظر رکھی۔ اور جلد ہی مجھ پر باب ولایت کھول دیا اور اپنی قر بت میں رہنے کے لئے ارشاد فرمایا۔

 


چراغ الدین سے دوسرا چراغ روشن

مریم اماںصاحبہ کے لئے ایک جگہ مقرر کر دی گی? اور واکی شریف میں ایک چراغ سے دوسرا چراغ روشن ہو گیا۔تاج الاولیا?بابا تاج الدینﺭﺿ کے فےض کی تقسےم اب مریم اماں صاحبہ کے ذرےعے بھی ہونے لگی۔بابا مرشد ہزاروں کی تعداد میںلوگو ں کو اماں صاحبہ کے پاس جانے کا حکم دیتے اور لوگ ان کے دربار سے بامراد لوٹتے۔ حاضرین نے یہ بات محسوس کے کی کہ جو بات حضرت بابا تاج الدین ﺭﺿ اپنی نشست گاہ پر فر ماتے اس با ت کا اظہار اماں صاحبہ اپنی قیام گاہ پر کر دےتی تھیں۔یہاںکبھی کبھی حضور بابا مرشد قبلہ ﺭﺿ بھی تشریف لے آتے تھے۔اور اماں صاحبہﺭﺿ کو اپنے ہمراہ لیکر گھو منے جآیا کرتے تھے گھوم کر جب آپ اپنے ڈےرے کی طرف واپس ہوتے تو اماں صاحبہﺭﺿ اپنے مقام پر ٹھہر جاتےں۔ اماں صاحبہﺭﺿ پر بابا تاج الدینﺭﺿ کی نظر عناےت

باباتاج الدین ا ماںمریم صاحبہ پر جو نظرعنا یت ر کھتے تھے اس کا اندازہ اس بات سے لگآیا جا سکتاہے کہ بابا مرشد نے تنبیہ کر دی تھی کہ ان کے پاس حاضری دےنے سے پہلے اماںصاحبہ کی خدمت میں حاضری دی جئے۔لوگوں نے اکثر دیکھا کہ دروےش اور فقرا?جو دربار تاج الاولیا?میں بابا مرشد کے دیدار کے لئے حاضرہوئے ان سے بابا مرشدﺭﺿ اس وقت تک نہ ملے جب تک انہوں نے اماں صاحبہ کے ہاں حاضری نہ دی۔لوگوںنے یہ بات بھی مشاہدہ کی کہ باباصاحب مریم اماں صاحبہ کی کسی بات کو رد نہیںفرماتے تھے۔حضور جب واکی شریف سے شکردرہ تشریف لئے تو اماںصاحبہﺭﺿ کو بھی ساتھ لے آئے۔آپ سے بھی بے شمار کرامات ظہور میں آئےں۔

 


اسم مبارک اور خطابات

بابا مرشدﺭﺿ اماںصاحبہ کو احتراماًاپنی والدہ کے نام پر مریم بی کہ کر پکارتے تھے اور فرمایا کہ: ? وہ تو مےری ماںہے۔? زمانہ ریاضت میں بابا مرشدﺭﺿ نے اماں صاحبہ کا نام? بھائی عبدالرحیم? رکھا تھا اور بعد میں گاہے بگاہے اسی نام سے آوازدیتے تھے۔سرکار تاج الاولیا?نے اماں صاحبہ کو مندرجہ ذیل خطابات سے بھی نوازا۔میراآفتاب عبدالرحےم میرا ماہتاب عبدالرحےم ۔سرکار تاج الاولیا اماں صاحبہ کے لئے فرماتے ہیں: ?دیکھو جی میرے عبدالرحےم کو سارا مےخانہ پی کر بھی ھل من مزےدھل من مزید کہتاہے اور باہوش ہے۔

 


وصال

ایک روزسرکار بابا مرشدﺭﺿ اماں صاحبہ کے پاس تشریف لائے اور فرمایا: ?یہ لو تمہاری کنگھی اور یہ تمہاری کنجی? حضور یہ فرماکر لوٹے ہی تھے کہ آپ اپنی حقےقت کی طرف رجوع ہوگئیں۔اور ۲۷ شوال ١٣٣٧ھ مطابق ۲۵ جولائی ١٩١٩ ء بروز جمعہ کو شکردرہ میں آپ کا وصال ہوا۔سسرکار باباصاحبﺭﺿ کے حکم سے آپ کا جنازہ مبارک کامٹی روانہ ہوا اور یہاں گاڑھے گھاٹ پرآپ کی تدفین ہوئی۔اِّنالِلِّہ ِواّنااِلیہ راجعون۔جس وقت آپ کا وصال ہوااس وقت آپ کی عمر مبارک تقریباَہجری کے مطابق ۳۵سال ۳مہینے، ۲۵دن تھی اور انگریزی کے مطابق ۳۴سال ،۳مہینے اور سات دن تھی۔

 


قبر شریف وجد میں

ےوم وصال پر شا ندارعرس ہوتا ہے۔عرس کا انتظام تاج آباد شریف سے ہوتاہے۔ ایک بار چہلم کے بعد قوالی شروع ہؤی تو آپ کی قبر شریف وجد میں تھی اور لوگ یہ گمان کر رہے تھے کہ قبر شق ہو جا ئے گی۔حضرت بابا ےو سف شاہﺭﺿ فرماتے تھے کہ اماں صاحبہ کی فا تحہ کا اہتمام حسب الحکم بابا مرشد ایک بار ہماری نگرانی میں ہوا۔یہ پہلا عرس ہوا۔مخلو ق بکثرت موجود تھی۔محفل سماع گرم تھی قوال یہ کہہ رہے تھے: ?پھر کیوں نہ میںاترؤں سکھی مےری چندریا صابر نے رنگی ہے? دفعتاًاماں صاحبہ کا مزار وجد میں آیا۔مجمع پر خوف،ہراس ،حےرت اور تعجب طاری ہوا۔ہم نے حکم دیا کہ مزار شریف کہ چاروں طرف چادر سے پردہ کیا جئے اور بابا مرشد کا عطیہ ایک جبہ ہمارے پاس تھا وہ مزار شریف پر ڈال دیاتو وہ کیفیت رفع ہو ی یہ واقعہ مشہور ہے خواص وعام میں۔